کاروار 31/دسمبر (ایس او نیوز)پچھلے دنوں ملک کے مختلف بحری اڈوں سے 7 اہلکاروں کو اس الزام میں گرفتار کیاگیا تھا کہ وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کوخوبصورت لڑکیوں کے ساتھ عیش اور نقدرقم کے عوض ہندوستانی بحریہ سے متعلق حسّاس معلومات فراہم کررہے تھے۔گرفتار شدہ اہلکاروں میں کاروار سی برڈ بحری اڈے کے2 اہلکار بھی شامل تھے۔
معلوم ہوا ہے کہ اس بات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اب تمام بحری اڈوں اور بحریہ کے جہازوں پراہلکاروں کے لئے ہر قسم کے اسمارٹ فونس اور انٹرنیٹ کی سہولت والے تمام آلات کے استعمال پر پابندی لگانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔اب بحریہ کا کوئی بھی افسریا اہلکار فیس بک، انسٹا گرام، وہاٹس ایپ اور دیگر مسینجرپلٹ فارمس کا استعمال نہیں کرسکیں گے۔بتایا جاتا ہے کہ بحریہ کے اہلکار سوشیل میڈیا پر اپنے بحری اڈوں، بحریہ کے فوجی جہازوں اور آبدوز (سب میرین) جہازوں پر کھڑے ہوکر پوز دیتے ہوئے اپنے فوٹو پوسٹ کررہے تھے۔ اور یہ حرکت بالواسطہ طور پر چین اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے لئےحساس معلومات فراہم کرنے کا سبب بن رہی تھی۔
ہندوستانی خفیہ ایجنسی کو پتہ چلا ہے کہ چین اور پاکستان سے متصل بحری سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالنے والے مشرقی اور مغربی علاقے کے بحری اڈوں پر تعینات اہلکاروں نے پاکستان کوحساس خفیہ معلومات فراہم کی ہیں جبکہ وشاکھا پٹنم بحری اڈے کو چینی بحریہ کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، مگر وہاں سے ہندوستانی آبدوز جہازوں سے متعلق اہم معلومات دشمن کو ملک کو فراہم کی گئی ہیں۔ایسی ہی کچھ صورت حال ممبئی کے بحری اڈے میں بھی دیکھنے کو ملی ہے۔ مگر بحری فوج کی طرف سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ تمام اہم اثاثے محفوظ ہیں اور سیکیوریٹی کے لحاظ سے کسی بھی قسم کا خطرہ پیدا نہیں ہوا ہے۔البتہ اس معاملے کی تحقیقات اب این آئی اے کی طرف سے کی جارہی ہے اور گرفتار کیے گئے بحریہ کے اہلکاروں سے مزید پوچھ تاچھ جاری ہے۔